Title: سجدۂ تعظیمی اور سجدۂ تعبدی کے متعلق حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلۂ ذیل میں کہ مقابر پر یا مخلوق میں سے کسی کے لیے سجدہ جائز ہے یا نہیں۔ اسی طرح قرآنِ مجید میں ہے
وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰۤىِٕكَةِ ٱسۡجُدُوا۟ لِآدَمَ
یعنی: جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو
اس سے تو آدم علیہ السلام کے لیے سجدے کا حکم ثابت ہو رہا ہے، تو کیا اولیاء اللہ کے سامنے یا ان کی قبور پر سجدہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر نہیں، تو مدلل طور پر قرآن و حدیث سے وضاحت فرمائیں، اور یہ بھی بیان فرمائیں کہ سجدۂ
ہماری شریعتِ مطہرہ میں اللہ عزوجل کے علاوہ کسی اور کو سجدہ کرنا حرامِ قطعی ہے — خواہ وہ سجدۂ تعبدی (عبادت کے طور پر) ہو یا سجدۂ تعظیمی (عزت و احترام کے طور پر)۔
فرق یہ ہے کہ
سجدۂ تعبدی حرام کی سب سے اعلیٰ قسم ہے اور کفر و شرک ہے۔ جو شخص اللہ کے علاوہ کسی کے لیے سجدۂ تعبدی کرے وہ کافر و مشرک ہے۔
سجدۂ تعظیمی کرنے والا کافر تو نہیں مگر گنہگار و فاسق ضرور ہے۔
تفصیل کے لیے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ کا رسالہ الذبدۃ الزکیہ لتحریم سجود تحیہ ملاحظہ کریں۔
فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو جو سجدہ کیا، اور حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے والدین و بھائیوں نے جو سجدہ کیا، وہ سجدۂ تعظیمی تھا، نہ کہ تعبدی۔ یہ سابقہ شریعتوں میں جائز تھا مگر ہماری شریعت میں منسوخ ہو گیا۔
لہٰذا آج کے دور میں کسی بھی مخلوق کو سجدہ کرنا — خواہ تعظیم کے لیے ہو یا محبت سے — سب حرامِ قطعی اور گناہ ہے۔
البتہ یاد رہے کہ سجدہ کہتے ہیں پیشانی زمین پر رکھنے کو۔ اگر کسی نے پیشانی نہیں رکھی بلکہ صرف ہاتھ، پاؤں، مزار، چوکھٹ یا غلاف کو بوسہ دیا، منہ لگایا یا آنکھوں سے لگایا، تو یہ سجدہ نہیں بلکہ بوسہ (تقبیل) ہے۔
اہلِ سنت و جماعت کے عوام و خواص اپنے علماء و مشائخ کی دست بوسی کرتے ہیں اور بزرگانِ دین کے مزارات و آستانوں کو بوسہ دیتے ہیں۔ یہ حرام یا گناہ نہیں بلکہ مستحب عمل ہے۔
وہابی حضرات از راہِ عناد و فساد اسے سجدہ کہہ کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں، حالانکہ سجدہ اور بوسہ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
جب وفدِ عبدالقیس حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کا رخِ انور دیکھا تو سواریوں سے خود اتر پڑے، والہانہ طور پر دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے اور نبی کریم ﷺ کے دستِ اقدس اور پائے مبارک کا بوسہ لیا۔
مرقات شرح مشکوٰۃ میں ہے
قال النبوي: تقبيل يد الغير إن كان لعلمه وصيانته وزهده وديانته ونحو ذلك من الأمور الدينيّة لم يُكره بل يُستحبّ۔
(مرقات شرح مشکوٰۃ، جلد 4، صفحہ 576، مطبع اصح المطابع)
ترجمہ
اگر کسی کے ہاتھ کا بوسہ دینا اس کے علم، پرہیزگاری، زہد و دیانت یا امورِ دینیہ کے سبب ہو تو یہ مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
سجدۂ تعبدی غیراللہ کے لیے کفر و شرک ہے۔
سجدۂ تعظیمی حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔
بزرگانِ دین یا والدین کے ہاتھ پاؤں کا بوسہ لینا جائز و مستحب ہے،
بشرطِ ادب و نیتِ تعظیمِ شرعی، نہ کہ عبادت۔
QNA-2025-R173029
Mufti Sharif-ul-Haq Amjadi